دل کے بازار
علی اکبر ناطق
اُسے دل کے بازار میں آئے عرصہ نہ گزرا
فقط چند روزوں کی باتیں
مگر کیسے کہہ دوں کہ وہ نَو عمر
رسمِ دلداری سے ناشناسا ہے اب تک
کراماتِ رمز و اشارہ سے، کیوں کر یہ سمجھوں کہ واقف نہیں ہے
جو مخمور آنکھوں سے ڈورے پروتا ہے تارِ شفق میں
وہ روشن نگہ عکسِ شیشہ پہ ڈالے
تو مستی سے آبِ حیا رنگ ٹپکے
گرہ سینہء سنگ کی رقصِ آواز سے کھول دینے پہ قادر
وہ شہزادہ ارمان پرور کتھا کی
کہانی کے ہر موڑ پر اجنبی ہے
مگر راہِ اُلفت کی بازی گری میں ہُنر آفریں
چشمِ کم باز سے پھینکے پانسے دلوں پر
تو اہلِ نظارا کو جائے اماں نہ ملے
رُخِ آئنہ رسمِ دیوار سے نا شناسا
فقط جادئوے حُسن سے سحر پھونکے
محبت کے مارے ہوئے شاعرِ خوش نوا پر
وہی شامِ رنگیں کا وارث
دلِ بے ریا میں مرے
مصرعۂ پُر غنا بن کے ٹھہرا ہواہے
سُرمنڈل کا راجہ