← Back to writings
Poetry

دید بان

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دیدبانوں سے کہو آج نہ شب بھر سوئیں
آج کی رات تماشے کی خبر ہے ہرسُو
خاک اُڑتی ہوئی آتی ہے اُفق کے سَر پر
ایک سناٹا فصیلوں کے دلوں میں اُترا
سائے پھیلے ہیں کئی دن سے مضافاتوں میں

ایک مفرور پرندہ جو سزا کے ڈر سے
لے گیا جانبِ ہیکل وہ سنہری فتنے
اب کرو اہلِ یمن کوئی بقا کا چارا
راستے سوئے سبا دوڑے چلے آتے ہیں

یاقوت کے ورق