دید بان
علی اکبر ناطق
دیدبانوں سے کہو آج نہ شب بھر سوئیں
آج کی رات تماشے کی خبر ہے ہرسُو
خاک اُڑتی ہوئی آتی ہے اُفق کے سَر پر
ایک سناٹا فصیلوں کے دلوں میں اُترا
سائے پھیلے ہیں کئی دن سے مضافاتوں میں
ایک مفرور پرندہ جو سزا کے ڈر سے
لے گیا جانبِ ہیکل وہ سنہری فتنے
اب کرو اہلِ یمن کوئی بقا کا چارا
راستے سوئے سبا دوڑے چلے آتے ہیں
یاقوت کے ورق