← تحریروں کی فہرست
شاعری

مدینے کا قِصّہ

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

علی بن محمدؑ تمھیں یاد ہو گا مدینے کا قصہ
یہی وہ مدینہ، جسے اُس کے بانی نے شہرِ محبت کہا تھا
یہاں اک شریفوں کا گھر
ہل اتیٰ اُن کا ورثہ
شریفوں کا گھر تھاخدا کی طرف سے زمانے پہ آیت
علی بن محمدؑ تمھیں یاد ہوگا
یہ سخیوں کا کنبہ ، فرشتوں کا ماویٰ
زمیں پر خدا کی امانت، عدالت کے بانی، شرافت کی محکم دلیلیں
زمانے پہ لازم تھی ان کی مودّت
مگر تم نے دیکھا علی بن محمدؑ
مودّت کی مرکز
محمد کے حوضِ شرافت کی کوثر
محمد کی عزّت
کسی بد نسب کی شقاوت کی زد میں
شکستہ در و بام کے درمیاں سے بلاتی رہی تھی
کریموں کے سلطان کو یوں بلاتی رہی تھی
ابو ذر کہاں ہو؟ علیؑ کو بلاؤ
مدینے کے اطراف میں اُس کنویں کھودنے والے مزدور کوتم بلاؤ
فدک جس کی میراث ہے اُس غنی کو بلاؤ
ابو ذر اُنھیں کہنا تیشے کو رکھ کر بہت جلد گھر کی خبر لیں
وہی گھر ، جسے حاسدوں کے بھڑکتے ہوئے سینوں کی آگ نے کھا لیا ہے
ابوذر علیؑ کو بلاؤ
مضافِ مدینہ میں روٹی کے بدلے
کھجوروں کے باغوں کو سیراب کرتے ہوئے فاتحِ مرحب و عنتری کو بلاؤ
کہو آج تیرے اُسی گھر پہ بلوہ ہے
جو آسیہؑ اور مریم ؑکے پردے کا ضامن
فرشتوں کا فرشِ زمیں پر اکیلا سہارا
وہی گھر
مسلسل جہاں آیتوں کی تلاوت میںبھاری پُڑوں
کوگھماتے ہوئے نور کے ہاتھ
پستے ہوئے جَوکی آواز میں قدسیوں کی سلامی
محمد کا دشمن یہاں آگ اور لکڑیاں لے کے آیا
ابوذر
محمد کے وارث کو جلدی خبر دو
کہ حیدر ؑ ! حسینؑ و حسنؑ اور محمد کی بیٹی کو
اولادِ ابلیس کے شر سے آکر رہائی دلاؤ
محمد کے گھر کو بچاؤ

یاقوت کے ورق