دید کی لَو بگھو گئی ہم کو
علی اکبر ناطق
دید کی لَو بگھو گئی ہم کو
پہلی شبنم تھی، دھو گئی ہم کو
رہ گئے یار ساحلوں کے لیے
موجِ دریا ڈبو گئی ہم کو
سارے الزام دُھل گئے دل کے
چشمِ بدنام رو گئی ہم کو
حوصلہ شب کا دیدنی ہے بہت
لے کے بانہوں میں سو گئی ہم کو
عکس تیرا اجالنے نکلے
نہر پر شام ہو گئی ہم کو
سبز بستیوں کے غزال