بادِ صحرا کو رہِ شہر پہ ڈالا کِس نے
علی اکبر ناطق
بادِ صحرا کو رہِ شہر پہ ڈالا کِس نے
تارِ وحشت کو گریباں سے نکالا کس نے
مختصر بات تھی، پھیلی کیوں صبا کی صورت
سرد راتوں کا فسانہ تھا، اُچھالا کس نے
بستیوں والے تو خود اوڑھ کے پتّے، سوئے
دِل آوارہ تجھے رات سنبھالا کس نے
آگ پھولوں کی طلب میں تھی، ہوائوں پہ رُکی
نذر جاں کس کی ہوئی، راہ سے ٹالا کس نے
کانچ کی راہ پہ اِک رسمِ سفر تھی مجھ سے
بعد میرے بُنا ہر گام پہ جالا کس نے
سبز بستیوں کے غزال