← Back to writings
Poetry

رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے
آنکھیں بے نور ہیں یوسف کی زیارت کر کے

دل کا احوال تو یہ ہے کہ یہ چپ چاپ فقیر
لگ کے دیوار سے بیٹھا تجھے رخصت کر کے

اِتنا آ ساں نہیں اشکوں سے شبیہیں دھونا
خود بھی روئے گا مصور یہ قیامت کر کے

کر کے بیٹھا ہوں میں یوسُف کے سپارے کی قرات
اشکِ یعقوب سے سینے کی طہارت کر کے

سر فرازی اُسے بخشی ہے خدا نے مطلق
دار تک پہنچا اگر کوئی بھی ہمت کر کے

سبز بستیوں کے غزال