رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے
علی اکبر ناطق
رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے
آنکھیں بے نور ہیں یوسف کی زیارت کر کے
دل کا احوال تو یہ ہے کہ یہ چپ چاپ فقیر
لگ کے دیوار سے بیٹھا تجھے رخصت کر کے
اِتنا آ ساں نہیں اشکوں سے شبیہیں دھونا
خود بھی روئے گا مصور یہ قیامت کر کے
کر کے بیٹھا ہوں میں یوسُف کے سپارے کی قرات
اشکِ یعقوب سے سینے کی طہارت کر کے
سر فرازی اُسے بخشی ہے خدا نے مطلق
دار تک پہنچا اگر کوئی بھی ہمت کر کے
سبز بستیوں کے غزال