← تحریروں کی فہرست
شاعری

رت جگے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

مَیں غنودگی سے رہا ہوا تو کُھلا یہ مجھ پہ معاملہ
مرے ہم نفس سرِ شام ہی مری بستیوںسے چلے گئے
وہی بستیاں کہ مضاف میں ہرے باغ تھے گُلِ سرخ تھے
دمِ صبح پھیلتی وادیاں پرِ جبرائیل کے نام تھیں
شبِ ماہ کھیلتی چاندنی رہِ جاں میں نورِ کلام تھی
بڑے پھاٹکوں کی حویلیوں میں ڈیوڑھیوں پہ نقیب تھے
کھلے صحن تھے کہ چبوتروں پہ نزولِ مجلسِ دوستاں

یہی بستیاں کہ چہار سُو یہاں سُنبلوں کے چراغ تھے
یہیںوسط میں بڑے چوک تھے جہاں برگدوں کی سپاہ تھی
کہیں دھوپ تھی تو وہ ساونی ،کہیں چھاؤں تھی تو وہ چیتری

وہ غروبِ عصرکے مرحلے پسِ شہر سونے کی بدلیاں
اُنہی بدلیوں کے حصار میں رُکیں پنچھیوں کی سواریاں
وہی پنچھیوں کی سواریاں مرے دوستوں کی نقیب تھیں
کہ سراغ جن کا ملے گا اب نہ جنوب میں نہ شمال میں
اُنھیں زرد وادیاں کھا گئیں، جہاں گھر شفق کا ہے آخری

بُری نیند تھی مری تاک میں جو ہزار صدیاں اُڑا گئی
مرے ہم نشیں کہ ازل سے ہی رہے منتظر مرے خواب کے
مجھے دے گئے ہیں وہ رت جگے کہ قیامتیں مرے خواب ہیں

یاقوت کے ورق