← تحریروں کی فہرست
شاعری

روز سپارے پڑھ کر پھونکے، دھاگے باندھے، پیر جتی کے روضے پر سو دیے جلائے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

روز سپارے پڑھ کر پھونکے، دھاگے باندھے، پیر جتی کے روضے پر سو دیے جلائے
لیکن دِل پر سحر کی گانٹھیں ایسے پڑیں تھیں،گرہیں کھولنے والے قُل بھی کام نہ آئے

آپ کہو تو کشتی لائوں، دریائوںکے پار چلیں گے، بھیگی ریت میں شام بھریں گے
چپو تیز چلانے والے، ڈوب مریں گے، ہاتھ مَلیں گے، صبح تلک جب ہاتھ نہ آئے

برف کا اُجلا پھول مَیں لائوں، کیسی شرط لگا کر اُس نے دُور پہاڑ پہ بھیجا مجھ کو
بات یہ برفوں بیچ کھلی ہے، برف کے اُجلے پھولوں والے برف ہوئے ہیں،لوٹ نہ پائے

آپ نہیں تو کس کے ہیولے پھیلے ہوئے ہیں سرد اندھیرے شہر کی ٹھٹھری چُپ راہوںپر
کب سے بھٹکا ڈھونڈ تا ہوں مَیں آگ بدن کے انگارے اور انگاروں کے دہکے سائے

ایک فسوں کو تیری گلی کی سب راہوں سے پہلے پڑھ کر خود پر مَیں نے پھونک لیا تھا
ہائے فسوں نے کیا کر ڈالا، میری آنکھ میں حیرت پھیلی، تیرے نقش بھی سب دھندلائے

سبز بستیوں کے غزال