← تحریروں کی فہرست
شاعری

رُسوائی

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

جاڑا آیا اور آتے ہی سازش کرلی پیڑوں سے
پھول اور پتّے بار ہیں تم پر، کیونکر بار اُٹھاتے ہو
اِن کے چہرے کی رونق کا باعث جو کچھ، پانی ہے
گر تم سمجھو تو یہ پانی خاص تمھارا حصّہ ہے

اپنا حصہ لے کر تم اپنے سر کا بوجھ اتارو

سارا پانی کھینچ لیا پھر اِن پتّوں کا پیڑوں نے
کیسے ہرے تھے زرد ہوئے، نیچے گِرکر خاکی ہونگے
روندیں گے پھر اِن کو وہ بھی جن پر سایہ کرتے تھے
پتّوں پر تو جو گزری سو گزری لیکن آج ذرا
پوچھو تو اِن لمبے قد کے اونچے اونچے پیڑوں سے
رسوا کرکے پتّوں کو تم نے کیسی عزت پائی
زیب و زینت خاک ہوئی، سَر سے پا تک ننگے ہوگئے

بے یقین بستیوں میں