ریشم بُننا کھیل نہیں
علی اکبر ناطق
ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس
دل کے لہو سے سانس ملا کرسُچا نور بناتے ہیں
اپنا آپ ہی کھاتے ہیں اور ریشم بُنتے جاتے ہیں
خواب نگر کی خاموشی اور تنہائی میں پلتے ہیں
صاف مصفّا اُجلا ریشم تاریکی میں بُنتے ہیں
کس نے سمجھا کیسے بُنے ہیں چاندی کی کرنوںکے تار
کُنجِ جگر سے کھینچ کے لاتے ہیں ہم نور کے ذرّوںکو
شرماتے ہیں دیکھ کے جن کو نیل گگن کے تارے بھی
ہم کو خبر ہے ان کاموں میں جاں کا زیاں ہوجاتاہے
لیکن فطرت کی مجبوری ہم ریشم کے کیڑوں کی
سُچا ریشم بُنتے ہیں اور تار لپٹتے جاتے ہیں
آخرگُھٹ کر مر جاتے ہیں ریشم کی دیواروں میں
کوئی ریشم بُن کر دیکھے ریشم بُننا کھیل نہیں
بے یقین بستیوں میں