← تحریروں کی فہرست
شاعری

سانولے خواب

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

ویرانی کے کنگرے چیخے شام کے سُرخ چوبارے سے
اُڑ گئی، چین کی نیلی چڑیا بام کے گول کنارے سے
دل کے خالی دالانوں تک یاد کے سائے آ پہنچے
درد کی آنکھیں چار ہوئیں پھر جگراتے کے تارے سے

چیتر رُت میں بُور اُترا تھا ایک لسوڑے والے گھر
گھر میں کبوتر اُڑتے تھے اور بُور اُنھیں بہکاتا تھا
نرم ہوا کی پرتوں سے جب پیڑکی شاخ لرزتی تھی
سامنے والے بام کے سینے کانچ اُترتا جاتا تھا
نافِ ہوا نے شاخ کو چھو کر لمس لیا تھا کھیتوں کا
سانولی برسن کے پھولوں کی باس دلوں تک آئی تھی

رنگ کا دریا ڈوب گیا ہے وقت کی پیلی مٹی میں
چینے پروں کی تیتری اُس کو بائولی ڈھونڈتی پھرتی ہے
خواب کے گھر میں موتیا اُترا دُھند بھری ہے آنکھوں میں
کون لیاوے موڑ کے تتری تیر ے سجرے سانولے خواب

سُرمنڈل کا راجہ