← Back to writings
Poetry

سونے کا پیڑ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

میرے گھر کے کچے آنگن میں سونے کا پیڑ
پتّے خاص زمرّد جس کے اور سنہری پھول
جگمگ جگمگ سارا آنگن اور آنگن کا روپ
ساون دھو کر چمکا دیتا، جب پڑتی کچھ دُھول

سونا کھانے آ جاتے پیارے پیارے پنچھی
بُلبل، مینا، طوطی، چڑیا، کوئل، کاگ، چُکور
جاڑا آتا تو سونے کا پیڑ سیہ ہو جاتا
پوس کے پالے سے بے بس کو کرنا پڑتا زور
شام سے لیکر صبح تلک کُہرے میں جم جاتا
ظالم اور بے درد وہ موسم لیتا اُس کو گھیر
سرد ہوا کے جھونکوں کے جب زور تھپیڑے لگتے
میرے گھر میں لگ جاتا پھر تُکلوں کا اک ڈھیر

بے یقین بستیوں میں