← Back to writings
Poetry

درد بھرا دل

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

اے صحرائی فطرت والے
پیلے بچھو تیرے ساتھی
اے بنجر دھرتی کے باسی
تو دریا سے دور رہا ہے
تجھ کو یہ معلوم کہاں ہے
کس کا نام ہے بیر بہوٹی
نیلے بھونرے کیا ہوتے ہیں
ہم رنگوں میں اڑتے پنچھی
ہم پھولوں سے کھیلتے جگنو
سبز رتوں کا جوبن لے کر
نرم ہوا کے جھونکے کھا کر
سرخ لبوں کا رس پیتے ہیں
رنگ جوانی رزق محبت
بستی بستی بانٹنے والا
چوڑے پاٹ کا بہتا دریا
ہوش سنبھالے تو دیکھا ہے
دُور افق تک بہتا جائے
اب یہ اپنا دل بھی دریا
آگ بھری ہے درد کی اس میں
پل میں پانی ہو جاتا ہے

اے صحرا کے کالے بدو
گدلا پانی پینے والے
دو بوندوں پر جینے والے
تو نے دیکھے بھورے پتھر
مردے نوچنے والی گرجیں
تجھ کو یہ معلوم کہاں ہے
درد بھرا دل کیا ہوتا ہے

بے یقین بستیوں میں