درد بھرا دل
علی اکبر ناطق
اے صحرائی فطرت والے
پیلے بچھو تیرے ساتھی
اے بنجر دھرتی کے باسی
تو دریا سے دور رہا ہے
تجھ کو یہ معلوم کہاں ہے
کس کا نام ہے بیر بہوٹی
نیلے بھونرے کیا ہوتے ہیں
ہم رنگوں میں اڑتے پنچھی
ہم پھولوں سے کھیلتے جگنو
سبز رتوں کا جوبن لے کر
نرم ہوا کے جھونکے کھا کر
سرخ لبوں کا رس پیتے ہیں
رنگ جوانی رزق محبت
بستی بستی بانٹنے والا
چوڑے پاٹ کا بہتا دریا
ہوش سنبھالے تو دیکھا ہے
دُور افق تک بہتا جائے
اب یہ اپنا دل بھی دریا
آگ بھری ہے درد کی اس میں
پل میں پانی ہو جاتا ہے
اے صحرا کے کالے بدو
گدلا پانی پینے والے
دو بوندوں پر جینے والے
تو نے دیکھے بھورے پتھر
مردے نوچنے والی گرجیں
تجھ کو یہ معلوم کہاں ہے
درد بھرا دل کیا ہوتا ہے
بے یقین بستیوں میں