← تحریروں کی فہرست
شاعری

سُرمنڈل کا راجہ

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

پھیلے دِنوںکی دیواروں پر بُن کر رات کے جالے
ٹھنڈے دلوں کے گاڑھے لہو پر پڑ ھ کر منتر کالے
مَیں جادو کے دیس چلا ہوں، جس کے پار اُجالے
نیل سرا میں کھو جائیں گے مجھ کو ڈھونڈنے والے

چھُونے والے، پاس آئے تو پاس نہ آنے دوں گا
سحر نگر میں پری تماشا، پریوں پاس رہوں گا

آنکھ ہوا کی بھر آئے گی، دُھندلائیں گے تارے
راہِ سفر میں جاگ اُٹھیں گے ٹھہری نیند کے مارے
تیزاُڑے گی جیت ہماری اُونگھنے والے ہارے
چھن چھن چھاجا چھنکائیں گے چُپ بیٹھے ہنکارے

پورب پچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا

مُلک سراب کی جادو نگری اور جادو کا ٹیلا
جوں جوں پربت پھیلتا جائے توں توں ماتھا گیلا
آخری برفوں کی منڈلی پر پھول ازل کا نیلا
آب حیات رگوں میں جاری لیکن چہرہ پیلا
جادوگرنی مجھے پکارے، مَیں پنکھو شرمیلا
آخر کھینچ لیا منتر نے، ایک چلا نہ حیلا
ڈھونڈنے والو جب پربت کے پار سے آن بلائو
نیل قضا کا نیل ہوئے ہم، نیل میں ہم کو پائو

سُرمنڈل کا راجہ