سُرمہ ہو یا تارا
علی اکبر ناطق
درد کی لذّت سے ناواقف خوشبو سے مانوس نہ تھا
میرے گھر کی مٹی سے وہ شخص بہت بیگانہ تھا
تارے چنتے چنتے جس نے پھول نظر انداز کیے
خواب کسے معلوم نہیںہیں، لمس کسے محبوب نہیں
لیکن جو تعبیر نہ جانے اُس کو اُونگھ بھی لینا عیب
رات کی قیمت ہجر نے سمجھی جس میں آنسو نُوربنے
زخم سے اُٹھنے والی ٹیسیںاوس کی ٹھنڈک پیتی ہیں
آج نہ پوچھو دُکھنے لگی ہے سُرمے سے کیوں اُس کی آنکھ
جس کو سنہرے دن کا سورج کرنیں بانٹنے آتا تھا
پتھر آخر پتھر ہو گا سُرمہ ہو یا تارا ہو
بے یقین بستیوں میں