شب کے سائے چاندنی سے بڑھتے ہیں
علی اکبر ناطق
شب کے سائے چاندنی سے بڑھتے ہیں
غم کے سورج روشنی سے بڑھتے ہیں
آپ کے غم سے سرو ہے باغِ دل
آپ کے غم خوش قدی سے بڑھتے ہیں
آگ سے جلنے لگے ہیں آپ بھی
سو دیے اِک تیرگی سے بڑھتے ہیں
کاخ و کُو جس روشنی سے بڑھتے ہیں
خالی گھر اُس تیرگی سے بڑھتے ہیں
کات لی ہیں پونیاں دو آپ نے
دودھ ریشے سادگی سے بڑھتے ہیں
تصویروں کا باغ