شریر بالیو
علی اکبر ناطق
اُٹھوشریربالیو
اُٹھائو گا گریں، چلیں
تمام گاگریں ہوں پہلوئوں میں چاندی والیاں
سروں کی چوٹیوں پہ جس طرح بتاشے چاند کے
چلوکنویں کی گول اور نتھلی منڈیر پر
منڈیر پر سُہانجنے کی پتلی سی ڈالیاں
جھکی ہوئی ہری سیاہ پتیوں کی جالیاں
چلو، شفق کی روشنی میںہَولے ہولے
چھم چھماکے چھم چھما
کنویں کی رانیو اُٹھو
کنواں تمھاری زندگی کا رازداں
کھڑے ہیں جس کی چرخیوں کے پاس بالکے
سنہرے بالکوں کے کانوں میں ہیںچھوٹی بالیاں
تماشا دیکھتی ہیں کالی کالی انکھیوں کی ڈوریاں
اُٹھا کے پھینکتی ہیں گاگروں پہ آدھے خوابوں کی خماریاں
چلو کنویں کی پاک بلبلو، سہیلیو
اُٹھائو گاگریں چلیں
کنواں تمھاری زندگی کا سانجھنا، سُہانجنا
سُرمنڈل کا راجہ