ظلمتیں
علی اکبر ناطق
پُرانے نجومی نے جو کچھ کہا تھا وہ میں نے سنا تھا
پرانا نجومی بہت دیر تک غور کرتا رہاتھا
ستاروں کی چالیں، فلک کے دریچے، زمینوں کی پرتیں
سبھی ایک اک کر کے اُس نے ٹٹولے
صحیفوں میں لکھے ہوئے راز کھولے
بہت دیر تک سِر بہ زانورہا، دشتِ اُمید میںزائچے کھینچ کر
اور پتھر پہ کندہ شبیہوںسے لے کر
مجلد کتابوں کی تحریر تک
نوعِ انساں کے سارے احوال کو
ایک اک کر کے اُس نے پڑھا اور کہا
صبحِ اُمید کے جتنے آثار تھے
اُن پہ ظلمت کی پرتیں چڑھی تہہ بہ تہہ
جن پہ گزرے زمانوں کی مہریں بھی ثبت اور
قرنوں سے اب تک مسلسل وہ پرتیں چڑھی جا رہی ہیں
یقیناً ہزاروں برس کا یہ انسان ظلمت سے مانوس ہوتا گیاہے
نگاہوں نے اس کی فقط تیروشب کی سیاہی کو دیکھا
یہ تاریک غاروں کا ازلی برہنہ مکیں اور اس کا لبادہ
اندھیرے رہے ہیں
سو اب تم اُجالوں کا رستہ نہ دیکھو
کہ چمگادڑوں کے لیے روشنی بھی ضرر کا سبب ہے
یاقوت کے ورق