آنکھ بے آنسو دل بے نور
علی اکبر ناطق
جنگل میں جب شام پڑی تھی اور پرندے سوئے تھے
صدیوں پرانی خاک پہ لیٹے اونگھ رہے تھے پیلے پات
جکڑ لیے تھے نحس کے جالوں نے پیڑوں کے لمبے ہات
کالی رات کا جادو اُترا گہرے سائے پھیل گئے
پھڑ پھڑاُڑتی راکھ نے نگلی میری آگ کی پھولی سانس
ہونکنے کی آواز نے توڑا پربھا دھرتی کا وجدان
بوڑھے زرد اُداس فرشتے میرے گلے سے لگ کر روئے
میں پتھر کا پتھر بیٹھا آنکھ بے آنسو دل بے نور
یاقوت کے ورق