← Back to writings
Poetry

آنکھ بے آنسو دل بے نور

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

جنگل میں جب شام پڑی تھی اور پرندے سوئے تھے
صدیوں پرانی خاک پہ لیٹے اونگھ رہے تھے پیلے پات
جکڑ لیے تھے نحس کے جالوں نے پیڑوں کے لمبے ہات
کالی رات کا جادو اُترا گہرے سائے پھیل گئے
پھڑ پھڑاُڑتی راکھ نے نگلی میری آگ کی پھولی سانس
ہونکنے کی آواز نے توڑا پربھا دھرتی کا وجدان
بوڑھے زرد اُداس فرشتے میرے گلے سے لگ کر روئے
میں پتھر کا پتھر بیٹھا آنکھ بے آنسو دل بے نور

یاقوت کے ورق