← Back to writings
Poetry

یہ آگ پیتا ہوا زمانہ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
فریب دیتا ہے زندگی کو
کھلی فضاؤں میں سانس لینے پہ عیب رکھتا ہے
سبز شاخوں کے نرم ریشے جلا رہا ہے
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
دھواں بنانے کے ماہروں نے وہ سحر پھونکے ہیں آدمی پر
کہ مول لیتے ہیں آگ موجِ صبا کے بدلے
گھٹن کی غاریں ہوا کے بدلے
عجب حماقت زدہ یہ انساں
گلابی رنگوں کو کاٹتا ہے
گداز سینے میں چھید کرتا ہے
زہر دل میں اُتارتا ہے
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
اسے ہواؤں سے دشمنی ہے
حیات رنگوں کو دینے والی کھلی فضاؤں سے دشمنی ہے
غلیظ مادے کو شعلہ دے کر کشید کرتا ہے تیز بدبو
اسے کثافت کی جستجو ہے
جو نیل سُرخی میں گھول دیتی ہے
راکھ خلیوں میں پھینکتی ہے
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ

یاقوت کے ورق