عصا بیچنے والو
علی اکبر ناطق
عصا بیچنے والو آؤ مرے شہر آؤ
کہ لگتی ہے یاں پر عصاؤں کی منڈی
ہرے اورلچکیلے بانسوں کے ، شیشم کی مضبوط لکڑی کے عمدہ
عصا بک رہے ہیں
مرے شہر کی ہر گلی ہر محلے میںکُھلنے لگی ہے عصاؤں کی دُکّاں
عصا ، جن کے خم پر مڑھے زرد پترے
عصا بیچنے والوآؤ
مرا شہر بوڑھوں ، خمیدہ کمر اُن ضعیفوں کی دنیا
جنھیں ہر قدم ٹھوکروں سے علاقہ
یہاں پر نہ سبزہ رُخوں کا نشاں ہے
نہ کوئی جواں سال، مضبوط گھٹنوں کا مالک
فقط سِن رسیدہ تبہ حال بوڑھے
لرزتے ہوئے ہاتھ
پالڑکھڑاتے
عصاکے سہارے قدم دو قدم چل کے تھک جانے والے
کسی سائے کی جستجو میں
عصا ٹیکتے ٹیکتے پُشتِ دیوار سے لگ کے یوں بیٹھ جائیں
کہ جیسے سگِ سُست رَوکوے خواجہ سرا میں
یاقوت کے ورق