یہ باتیں اب راز رہیں گی
علی اکبر ناطق
یہ باتیں اب راز رہیں گی اِس پتھر کی بستی میں
ہم یاقوت کی آنکھوں والے کب سوئے اور کب جاگے
ریزہ ریزہ نور چُنا تھا کس نے خدا کے ماتھے سے
کس نے نور کے دل سے نکالی اُجلی شبنم راتوں کو
شعر کی وادی میں اُترے تھے کون پیمبر لفظوں کے
کون چُرا کر لے آتے تھے لعل صحیفوں کے گھر سے
کیوں پھولوں کو روگ لگے تھے پورے چاند کے موسم میں
کیوں رنگوں کی سرگوشی پر سُرخ شگوفے روئے تھے
پھیلتی راتوں کے پہلو میں کس کی درد سے باتیں تھیں
ہم کلیوں کے دل والے کب مسکائے کب مرجھائے
یہ باتیں اب راز رہیں گی اِس پتھر کی بستی میں
یاقوت کے ورق