غنچہ غنچہ ہنس رہا تھا، پتی پتی رو گیا
علی اکبر ناطق
غنچہ غنچہ ہنس رہا تھا، پتی پتی رو گیا
پھول والوں کی گلی میں گل تماشا ہو گیا
ہم نے دیکھیں دُھوپ کی سڑکوں پہ جس کی وحشتیں
رات کے سینے سے لگ کر آخرش وہ سو گیا
آسماں کے روزنوں سے لوٹ آتا تھا کبھی
وہ کبوتر اک حویلی کے چھجوں میں کھو گیا
اک گلی کے نور نے تاریک کتنے گھر کیے
وہ نہ لوٹا شخص بینا، آنکھیں لے کر جو گیا
معجزے ایمان سے ہوتے ہیں تیرے گھر کے بیچ
کعبے کے سجدوں کا منکراِک نمازی ہو گیا
سبز بستیوں کے غزال