چشمِ پُر آب نے نظر کی ہے
علی اکبر ناطق
چشمِ پُر آب نے نظر کی ہے
مَشکِ دل روشنی سے بھر دی ہے
ہم نے سو بار سر کو پٹخا، پھر
آپ نے تیغ کی خبر لی ہے
سرفرازی ہو تاجِ شاہی کو
چوک میں دار نصب کر دی ہے
رُکتے رُکتے فلک پہ جا نکلے
اُڑنے والوں نے سیر کم کی ہے
ماہ کنعاں کااُن کنووں میں ہے
چاندنی جن میں پانیوں کی ہے
سبز بستیوں کے غزال