← تحریروں کی فہرست
شاعری

مارچ کے پھول

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

(نثری)

آؤ مارچ کے پھولوں کا تبادلہ کریں
میرے گھر میں سوسن کے سفید پھولوں کی کیاریاں ہیں
تیرے آنگن میں سمرن کے زرد گُلوں کی ڈولیاں ہیں
کھیت میرے زعفرانوں سے بھر گئے ہیں
باغ خوبانی اور آلوچے کے اُجلے پھولوں سے نکھر گئے ہیں
تیرے باغیچے چیری کی مہکتی کلیوں سے لڑ گئے ہیں
چشمے پانیوں کی تیز چاندیوں سے اُبل پڑے ہیں
سفید چاندیوں کے نالے انجیر کے درختوں کے دائیں بائیں سے گھوم کر بہہ رہے ہیں
پرندوں نے پر پھڑپھڑائے ہیں
تیرے اور میرے گھروں کی چھتوں پر پھریریاں لیتے ہیں
گیت گاتے ہیں اور ہمیں بلاتے ہیں
یہ کہتے ہیں مارچ آگیا ہے
آو مارچ کے پھولوں کا تبادلہ کریں
تم مجھے زرد گلوں کی ڈولیاں دے جاؤ
مَیں تمھیں خوبانی کے کنوارے پھولوں کے ہار پہناؤں
اے مِرے دوست
آؤ تمھیں پھولوں کے تحفے دوں
شاید یہ ہمارا آخری مارچ ہو

مارچ کے پھول