← تحریروں کی فہرست
شاعری

موتی

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

بادلوں میں مرے کچھ پرندے گئے
ایسے بادل جو اونچے ستونوں پہ تھے
پاک موتی تھے گویا پرندے مرے
میں نے پالا اُنھیں دل کی تنہائی میں
آنسوؤں کا جنھیں چوگ دیتا رہا
آنکھیں یاقوت کی اور پر دودھیا
وہ شکاری کی نظروں میں آئے نہیں
اب سنا میں نے سب وہ پرندے مرے
حوریں معصوم ہیں مالکِ خلد کی
موت سے ماورا زندگی کی امیں
شکر ہے میرے موتی ٹھکانے لگے

یاقوت کے ورق