← تحریروں کی فہرست
شاعری

نقّارہ

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

اے دَھڑکے دِلوں کے نقارو اب کون سے لمحے دھڑکو گے
گر آج بہانہ عجلت ہے پھر کون زمانہ آئے گا
جب دھڑکن چوٹ نہ مارے گی بیگار کے سوکھے چمڑوں پر
جب ہاتھ نہ جنبش دیویں گے
جب بازو ساکت لیٹیں گے
پھر کیسے ضرب لگاو گے
وہ کون سیاپا ہووے گا جس صدمے پر تُم دھاوو گے
جب دھڑ دھڑ دھوم سے باجو گے
جب خلقت کو برماوو گے
احساس کی میّت چوکوں پر بےکفن و جنازہ سڑتی ہے
خالی اور ویران ہوا میں بھوت کی کالک بُنتی ہے
لوگ ہیں یا پھر قبریں ہیں
یا روحوں کی موتیں ہیں
ایک کھنڈ ہے مُردوں کا
جس کو شہر کا نام دیا
ایک سرا ہے وحشت کی
جس میں ڈر کا پھیرا ہے
سگ دریدہ دہنوں کی
آوازوں کے دانت ُکھلے
نیک ہوا کے کوچے سب
بدبوئوں نے بند کیے
کب نیندوں کو موت آئے گی
کب جاگیں گے جاگنے والے
جن سے تونے عہد لیا تھا بستی کی آزادی کا
پھولوں کی آبادی کا

مارچ کے پھول