← Back to writings
Poetry

نوحہ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

وہی بادلوں کے برسنے کے دن تھے
مگر وہ نہ برسے
مبارک ہو شُوریٰ کی صنعت گری کو
مشقت سے بیجوں کو تیار کرکے
اُگائی تھی صحرا میں چوہوں کی کھیتی
جو آہستہ آہستہ بڑھتے رہے
پھرکھڑے ہوگئے اپنی دُم کے سہارے
کَترنے لگے ایسے پیاسی زبانوں کے نوحے جو مشکوں کے اندر اِمانت پڑے تھے
خباثت نے اُگلے تھے منحوس بھوتوں کے لشکر
کہ چوہوںکی امداد کرتے ہوئے نور کی بستیوں میں وہ داخل ہوئے
جو اُڑاتے تھے گرد و غبار اپنے سر پر
پھٹے طبل کا شور گرتا تھا دل پر
بھیانک صدائوں میں بازو اُٹھاکر
چلانے لگے رقص میں تیز پائوں
تعفن میں لپٹے ہوئے سانس چھوڑے
بڑھے کچکچاتے ہوئے دانت اپنے ہزاروں طرف سے
فرشتوں نے دیکھا تو گھبرا گئے اور خستہ پیالوں کو ریتی سے بھر کر
سُکڑنے لگے اپنے خیموں کی جانب
وہ ریتی کے ذرّے جنھیں آب سورج کی کرنوں نے دی تھی
مگر وہ نہ بر سے،
وہی بادلوں کے برسنے کے دن تھے

بے یقین بستیوں میں