← Back to writings
Poetry

رہزنی خوب نہیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

رہزنی خوب نہیں خواجہ سرائوں کے لیے
شور پائل کا سرِ راہ نہ رسوا کر دے
ہاتھ اٹھیں گے تو کنگن کی صدا آئے گی
سر پہ باندھی ہوئی دستار اُتر جائے گی
تیرگی فتنۂ شہوت کو ہوا دیتی ہے
چاندنی رقص پہ مجبور کیا کرتی ہے
نرم ریشم سے بُنے شوخ دوپٹّوں کی قسم
لوگ لُٹنے کو سرِ راہ چلے آئیں گے
اِس قدر آئیں گے بھر جائے گا پھر رات کا دل
سخت لہجہ گُلِ نغمہ میں بدل جائے گا
خوں بہانے کے عوض عطر فشانی ہو گی
ہوش آئے گا تو بکھرے پڑے ہوں گے گھنگرو
صبح پھر چاک لباسوں کا تماشا ہو گا
رہزنی خوب نہیں خواجہ سرائوں کے لیے

بے یقین بستیوں میں