← Back to writings
Poetry

مرے ہم نفس

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

مرے ہم نفس کوئی بات کر
تری خامشی نے ڈرا دیا
میں جہاں جہاں تجھے لے گیا
رہی بدگمانیاں راہ میں
وہ صدا جو دل کی حیات تھی
وہ جو حرف میرا ثبوت تھے
مرے نطق سے وہ جُدا ہوئے
تری چُپ کے سائے میں جا پڑے

کیا شرر کا کوئی وجود ہے؟
جو لہو میں آگ لگا سکے
ذرا سانس لے مرے قرب میں
کہ نفس چلے مری نبض کا

کئی راز دل میں چھُپے ہیں جو
کئی درد ہیں کہ جگر میں ہیں
یہ تری امانتیں کب تلک
میں اُٹھا اُٹھا کے پھروں بھلا
ذرا رحم کر مرے حال پر
مرے ہم نفس کوئی بات کر

بے یقین بستیوں میں