مرے ہم نفس
علی اکبر ناطق
مرے ہم نفس کوئی بات کر
تری خامشی نے ڈرا دیا
میں جہاں جہاں تجھے لے گیا
رہی بدگمانیاں راہ میں
وہ صدا جو دل کی حیات تھی
وہ جو حرف میرا ثبوت تھے
مرے نطق سے وہ جُدا ہوئے
تری چُپ کے سائے میں جا پڑے
کیا شرر کا کوئی وجود ہے؟
جو لہو میں آگ لگا سکے
ذرا سانس لے مرے قرب میں
کہ نفس چلے مری نبض کا
کئی راز دل میں چھُپے ہیں جو
کئی درد ہیں کہ جگر میں ہیں
یہ تری امانتیں کب تلک
میں اُٹھا اُٹھا کے پھروں بھلا
ذرا رحم کر مرے حال پر
مرے ہم نفس کوئی بات کر
بے یقین بستیوں میں