وہاں کرم کو ہے دوام، سلسلے شرف کے ہیں
علی اکبر ناطق
وہاں کرم کو ہے دوام، سلسلے شرف کے ہیں
ہماری دولتیں نہ پوچھ، ہم گدا نجف کے ہیں
زمانے والے ہم سے لاکھ منہ بسورتے رہیں
ہمارے بارھویں امام ہم تری طرف کے ہیں
قتال و کذب و لعن ہیں امیرِ شام کے نصیب
یقین و عدل و مہر و صدق سب علیؑ کی صف کے ہیں
قبول کر ہمارے اشک یا امیرِ عصرِ نَو
یہ چشم کے گُہر غمِ حسینؑ کے صدف کے ہیں
فریب کار دل تری جناب سے پرے پرے
مرے امام بس وَلا کے دل ترے ہدف کے ہیں
تصویروں کا باغ