← تحریروں کی فہرست
شاعری

پلٹ کے بدنصیب آگئے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

پلٹ کے بد نصیب آگئے
نظر کا راستہ بنا
اُٹھا کے دیکھ مخملیں حجاب شہریارِ بے دلاں
پلٹ کے آگئے ستائے زرد موسموں کے لوگ
جن کے پہلوؤں کی آگ کو جلاکے راکھ کرگئیں سیاہ بادلوں کی بجلیاں
ہوائیں کھا گئیں جبیں کی وہ حرارتیں جو نیلگوں بلندیوں کی کاٹ تھیں
انا کے فاصلے سمیٹ شہریارِ بےدلاں
اُتر کے دیکھ سرد راستوں کے بےنوا مسافروں کا حال
فصلِ زرد میں
تھکا گئیں جنھیں فراق کی طویل صحبتیں
عظیم داستاں کے بادشا
گئے دنوں کے وارثوں سے بدگماں نہ ہو
کہ آگئے ہیں لوٹ کر ترے دیار میں
سمیٹ کر ردائے تار تار
بیٹھے ہیں سروں سے خاک جھاڑ کر

یاقوت کے ورق