پونے دو ارب گلیڈی ایٹر
علی اکبر ناطق
(نثری)
مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں
ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں
پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے
یا پھر دونوں
یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے
تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں
تالیوں کی آواز گلیڈی ایٹر کی لاشیں نہیں سُنتیں
فقط تڑپتی ہیں
مَیں اِس کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
کیونکہ مَیں جانتا ہوں
مَیں کسی بھالے، نیزے یا تلوار کی ضرب سے بہت دُور ہوں
فقط ایک تماشائی
فاتح گلیڈی ایٹر کی قیمت
میری ایک تالی کے برابر ہے
وہ تالی
جسے مَیں اپنے زانو پر پیٹتا ہوں
یا دو ہاتھوں سے بجاتا ہوں
گلیڈی ایٹر میری تالی کی آواز کو شناخت نہیں کر سکتا
وہ ایک لمحے میں بہت سی تالیاں سُنتا ہے
اگر وہ زخموں سے چور ہے یا مر چکا ہے تو اُسے تالیاں بالکل سنائی نہیںدیتیں
اِس کا تجربہ
ایسے شخص کو کیسے ہوسکتا ہے جو میدان سے باہر ہے
جب تک خواب سے بیدار نہ ہو جائے
اور اُسے پتا چلے کہ وہ خود گلیڈی ایٹر ہے
اے پونے دو ارب گلیڈی ایٹرو
ایک دن تمھیں پتا چلے گا تم تماشائی نہیں، گلیڈی ایٹر ہو
پھر تمھیں کوئی تالی، کوئی نعرہ سنائی نہیں دے گا
تمھارے کان بہرے ہو جائیں گے
میدان خون کے تالاب بن جائیں گے
پھر تمھیں خبر ہو گی یہ تماشا محظوظ ہونے والا نہیں
مارچ کے پھول