← Back to writings
Poetry

ہزارہ کا نوحہ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

اے خون میں نہائے ہوئوں کے وارثو
مَیں تمھیں پُرسہ دینے سے قاصر ہوں
تمھارے شہیدوں کے خون کو بوسہ دینے سے عاجز ہوں
میرے اور تمھارے درمیان ایک خلیج ہے
جس کے کناروں پربھیڑیے دانت نکالے ہونک رہے ہیں
یہ بھیڑیے مکمل شناخت رکھتے ہیں
اِن کے چہروں پر نہ کوئی ماسک ہے نہ نقاب ہے
یہ بھیڑیے خاکی وردی کے جرنیل ہیں
جو بلوچستان کی ریت کو تمھارے خون سے دھو کر
ڈالروں کے عوض بیچتے ہیں
اِن کے نجس پنجے اور دانت تمھارے دلوں میں گڑے ہیں
مَیں بے کس شاعر اُنھیں نکالنے کی طاقت نہیں رکھتا
اے کوئٹہ کے ہزارہ
مجھے معاف کرنا
میں تمھارے قاتلوں کی مذمت نہیں کر سکتا
اُن کی مذمت سیکورٹی رسک ہے
اے کوئٹہ کے ہزارہ
جب بھی تمھاری حمایت میں زبان کھولتا ہوں
مجھے متعصب شیعہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے
مجھے کہا جاتا صرف ادب لکھوں
بے گناہوں کے خون پر بولنا تعصب ہے
مَیں لبرل اور ادیب ہونے کے ناطے تمھاری آواز نہیں بن سکتا
اے کوئٹہ کے ہزارہ مجھے معاف کرنا
مَیں صرف انسانوں کے قتل پر بول سکتا ہوں
اور تم شیعہ ہو
تم پر نوحہ کروں گاتو مجھے لبرلز کی طرف شیعہ ہونے کا طعنہ ملے گا
اے کوئٹہ کے ہزارہ
مَیں جانتا ہوں تم بڑی مصیبت میں ہو
مگر کیا کروں
تمھارا جرم ناقابلِ برداشت ہے
تم علیؑ والے ہو

مارچ کے پھول