← تحریروں کی فہرست
شاعری

پُرسا

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

پوچھنے آیا نہ کوئی مجھ سے شہیدوں کے نام
دیکھنے آیا نہ شفق میں یہ نہائے ہوئے چاند
غم کی آواز ہے گلیوں میں نہ سڑکوں پہ ہجوم
لوگ جیسے کسی میلے میں گئے ہیں شب سے
اور اب تک نہیں لوٹے مجھے پُرسا دینے
اک خموشی کی صدا اور صدا میں وحشت
ایسی وحشت کہ دُعا دل سے لپٹ کر روئے
کوئی دن بھر مجھے پُرسا نہیں دینے آیا
کوئی لگ کر مرے سینے سے نہ رونے بیٹھا
اپنے مقتولوں پہ تنہا مَیں رہا گریہ کناں

سُرمنڈل کا راجہ