← تحریروں کی فہرست
شاعری

پھر صبا گھر میں پِھری ہے، گل کدوں کے دن پِھرے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

پھر صبا گھر میں پِھری ہے، گل کدوں کے دن پِھرے
برگ شاخوں پر چڑھے ہیں، پھول پھولوں پر گِرے

کیا نمو پرور ہوائے دل کی لہریں ہیں رواں
میرے دامن سے لگے ہیں تیرے دامن کے سِرے

عکسِ گُل سے بھر گئے تالاب چشمِ صبح کے
کچھ گلابی، سبز کچھ اور نیلگوں ہیں کچھ نِرے

نِتھرے پانی والی بستی گِریہ والے لوگوں کی
آنکھیں دھونے ہم گئے تھے اُجلی کلیوں میں گِھرے

باغوں باغوں بھر گیا ہے برگ و بُلبل کا لہو
قینچیوں سے دل کٹے ہیں آریوں سے گل چِرے

سبز بستیوں کے غزال