← Back to writings
Poetry

پھول اُگے زرد فام کہنہ دروں میں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

پھول اُگے زرد فام کہنہ دروں میں
آن بسے ہوں فراق جیسے گھروں میں

دُور بہت ہیں پہاڑ تیرے شفق کے
اور نہیں ناف تک بھی تاب پروں میں

یار نمک رنگ تھا کہ کھاتا رہا دل
اُٹھنے لگا آج تو یہ شور سروں میں

کون تری چشمِ نیل فام کو دیکھے
بند پڑی سوتی ہیں وہ نیل گھروں میں

ریت بہت پھیلی تھی پہَ آج تجھے دیکھ
پُھٹنے لگے خوابِ سبز چشم تروں میں

تصویروں کا باغ