گفتگو ایسے چلی لعلِ لباں سے میری
علی اکبر ناطق
گفتگو ایسے چلی لعلِ لباں سے میری
کھینچ لی اُس نے زباں اپنی زباں سے میری
کیسے پھوٹا ہے شگوفے کی طرح اُس کا جمال
آج پھیلا ہے بہت مُشک دہاں سے میری
شعر سُنتا ہے مرے ایسے وہ مُشفق زادہ
جیسے گُل ہنس کے گِرے طرزِ بیاں سے میری
جانے کس پھول کے کوچے سے ملا ہے مجھ کو
رنگ و بو اُس کے نکلتے ہیں زباں سے میری
سب مجھے آنکھ میں لیتے ہیں شفق کی صورت
صُحبتِ لب ہے بہت لالہ رُخاں سے میری
تصویروں کا باغ