← Back to writings
Poetry

بہار آئی ہے مگرشفق کے پھول باغ کو نہیں دئیے گئے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

بہار آئی ہے مگرشفق کے پھول باغ کو نہیں دئیے گئے
ہمارے باغباں ہمارا خوں خزاں کے دن ہوا کو بیچ آئے ہیں

ہماری بستیوں میں دُھند اور سرد موسموں کے راج ہیں
ہمارے پیڑ سر بلند ہیں مگر خزاں میں رنگ لائے ہیں

ہماری دن سے گفتگو رہی ہمیں سیاہ رات نے چھوا نہیں
ہمارے گھر میں چاندنی کے پھول چودھویں کی رات آئے ہیں

جو پربتوں کے راز تھے وہ راز پربتوں میں دب کے رہ گئے
بلند کلغیوں کے کوہ دُور ہی گئے نہ پاس آئے ہیں

تصویروں کا باغ