← Back to writings
Poetry

ہنس کھیل کے بازی ہاری ہے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ہنس کھیل کے بازی ہاری ہے
یہ بات مرے خوش رُو کی ہے

کچھ دن میں کِھلیں گے پھول بہت
اک گُل نے مجھے بھی زباں دی ہے

سبزہ تھا رُخِ تازہ کا امیں
یہ فصل لبوں نے کھا لی ہے

مَیں آنکھ رکھوں گا کھول کے دوست
شب تیرے بدن پر پھیلی ہے

آکاس کی صورت آ کے لپٹ
اب شاخ غموں کی سبز بھی ہے

تصویروں کا باغ