ہنس کھیل کے بازی ہاری ہے
علی اکبر ناطق
ہنس کھیل کے بازی ہاری ہے
یہ بات مرے خوش رُو کی ہے
کچھ دن میں کِھلیں گے پھول بہت
اک گُل نے مجھے بھی زباں دی ہے
سبزہ تھا رُخِ تازہ کا امیں
یہ فصل لبوں نے کھا لی ہے
مَیں آنکھ رکھوں گا کھول کے دوست
شب تیرے بدن پر پھیلی ہے
آکاس کی صورت آ کے لپٹ
اب شاخ غموں کی سبز بھی ہے
تصویروں کا باغ