← Back to writings
Poetry

تیرے لیے ابر، دُھوپ میرے دِنوں میں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

تیرے لیے ابر، دُھوپ میرے دِنوں میں
بیتے یونہی ماہ وسال گزرے دِنوں میں

لعل ترے سُرخ آج نیلے پڑے ہیں
زرد ہوئے کیسے کیسےسبزے دِنوں میں

آب کہیں سرد اور دشت کہیں گرم
پھیلے ہوئے صحرا دیکھے سمٹے دِنوں میں

روگ تجھے پوچھیں گے نہ مجھ کو مرے دوست
شاہ ہوئے ہیں فقیر بگڑے دنوں میں

دل کو شفق ہونے دے، نہ کرنا ابھی قتل
خونیں کریں گے بہار تھوڑے دنوں میں

تصویروں کا باغ