← Back to writings
Poetry

دل بھلے بھُنتا پِھرے اور جگر چاک رہے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دل بھلے بھُنتا پِھرے اور جگر چاک رہے
سینہ ہو میوہ بھرا، اُس پہ مری تاک رہے

ایک بے رنگ سے پتے کو کیا تُونے شفق
ہاتھ شامل نہ ترا ہو تو حِنا خاک رہے

ناف پانی سے بھری تھی کہ وہ زمزم کی تھی چاہ
جب تلک ہم نے پیا آب یہ، لب پاک رہے

شہرِ لاہور سے دہلی میں چلے اپنا ٹکٹ
سبزہ خط کا بھی رہے تیرا مِری ڈاک رہے

آپ کے لُطف کی بارش کے نہ ہونے کے سبب
سیر پر آب پِھرا، رنگ و نظر خاک رہے

تصویروں کا باغ