ہنسنا نہیں پھول کا نہ رونا سمن میں
علی اکبر ناطق
ہنسنا نہیں پھول کا نہ رونا سمن میں
خامشی کس موت کی ہے صحنِ چمن میں
جیبِ کفن چاک کر کہ تار ہوس سے
باندھے پھرا ایک عمر روح بدن میں
دل میں چُبھا کانچ تھا یہ اُس کا سبب ہے
شاخ لہو کی دراز تارِ کفن میں
شمع! زباں کو سنبھال، میرے تئیں آج
لاکھ شعاعیں ہیں ایک لعلِ سخن میں
کون ہُنرکا لطیف سینے چلا ہے
نالۂ بلبل سے چھید پھول کے تن میں
سبزگھروں سے فرار آنکھ بندھے لوگ
دُھول پھریں چاٹتے یہ چاند کے بَن میں
تصویروں کا باغ