← Back to writings
Poetry

ہنسنا نہیں پھول کا نہ رونا سمن میں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ہنسنا نہیں پھول کا نہ رونا سمن میں
خامشی کس موت کی ہے صحنِ چمن میں

جیبِ کفن چاک کر کہ تار ہوس سے
باندھے پھرا ایک عمر روح بدن میں

دل میں چُبھا کانچ تھا یہ اُس کا سبب ہے
شاخ لہو کی دراز تارِ کفن میں

شمع! زباں کو سنبھال، میرے تئیں آج
لاکھ شعاعیں ہیں ایک لعلِ سخن میں

کون ہُنرکا لطیف سینے چلا ہے
نالۂ بلبل سے چھید پھول کے تن میں

سبزگھروں سے فرار آنکھ بندھے لوگ
دُھول پھریں چاٹتے یہ چاند کے بَن میں

تصویروں کا باغ