← Back to writings
Poetry

کعبہ میں نغمے بُتوں کے گائے ہیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

کعبہ میں نغمے بُتوں کے گائے ہیں
ناطقِ حیراں کے ہم بہکائے ہیں

چشمِ دل پر با خدا کھُلتے گئے
آپ ہم سے جس قدر شرمائے ہیں

کس تَری میں ڈوب کر نکلی نگہ
آنکھ کے تارے بہت مُسکائے ہیں

سبز آتش میرے آگے پھول تھی
سُرخ رُو دل کو وہیں ڈال آئے ہیں

شام کے نکلے ستارے صبح تک
اشکِ نمکیں کی طرح سےکھائے ہیں

روپ کے سونا بھرے دو طشت سے
آبِ لب اور نُورِ تر پی آئے ہیں

نیلمیں آنکھیں جہاں پر پھرتی تھیں
رنگ اُن گلیوں سے ہم بھی لائے ہیں

تصویروں کا باغ