بُت کسی روز مرے ساتھ خدا تک جائے
علی اکبر ناطق
بُت کسی روز مرے ساتھ خدا تک جائے
حیرتی نقش کبھی صَوت و صدا تک جائے
لَو سے آواز نہ نکلے تو دیے جلتے رہیں
جو زباں چُپ ہی رہے کوہِ ندا تک جائے
رات کے دل میں پڑے سُرخ چراغوں کی گِرہ
مرمریں ہاتھ اگر رنگِ حنا تک جائے
دل پرویا ہے سرِ شاخِ سناں طائر کا
بوئے خوں ریت کی راہوں سے صبا تک جائے
ایک شاعر کو ہُنر خواب کی تصویر کے ہیں
دو اجازت کہ تری خواب سرا تک جائے
تصویروں کا باغ