ایک لہو چشم سے شعلے لڑے ہیں
علی اکبر ناطق
ایک لہو چشم سے شعلے لڑے ہیں
پھول اِسی آگ میں پیلے پڑے ہیں
بُلبلیں اِتنا تو بھریں باغ میں نیل
برگ ہِلیں، مدتوں سے چُپ کھڑے ہیں
شیریں بہت ہے یہ تَپا کے رکھا دودھ
آگ پہ دو روغنی کوزے چڑھے ہیں
شام کبھی دشت میں ہو جائے اُسے
دشت، مرے گھر میں جو ویراں پڑے ہیں
سنگ سے، شیشے سے گزر جاتا مگر
دل کے مقابل میں ترے غم بڑے ہیں
سُرخ رو سورج کی شعاعوں پہ حسینؑ
روشنی کے سینے میں نیزے گڑے ہیں
تصویروں کا باغ