جبیں پہ چاندنی بغل میں بستے تھے
علی اکبر ناطق
جبیں پہ چاندنی بغل میں بستے تھے
سکول میں ہمارے خواب ہنستے تھے
کیا لال پھولوں کے تھے باغ گائوں میں
صبا کے ہاتھ میں گُلوں کے دستے تھے
ہمارے گال چومتی تھیں تتلیاں
گلوں کے برگ عارضوں پہ ڈستے تھے
ہمارے ساتھ ساتھ شام پھرتی تھی
سیاہ چشم میں شفق کے رستے تھے
گھروں کی چھت پہ گرتے تھے نظر کے پھول
کبھی درِ مکان پر برستے تھے
تصویروں کا باغ