← Back to writings
Poetry

جبیں پہ چاندنی بغل میں بستے تھے

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

جبیں پہ چاندنی بغل میں بستے تھے
سکول میں ہمارے خواب ہنستے تھے

کیا لال پھولوں کے تھے باغ گائوں میں
صبا کے ہاتھ میں گُلوں کے دستے تھے

ہمارے گال چومتی تھیں تتلیاں
گلوں کے برگ عارضوں پہ ڈستے تھے

ہمارے ساتھ ساتھ شام پھرتی تھی
سیاہ چشم میں شفق کے رستے تھے

گھروں کی چھت پہ گرتے تھے نظر کے پھول
کبھی درِ مکان پر برستے تھے

تصویروں کا باغ